سڑک کی کھدائی کی اجازت چھ ماہ قبل سوئی گیس کو دی گئی تھی تاہم اب اچانک لائن ڈالنے کیلیے اسے کھودا گیا ہے، ٹاؤن انتظامیہ
کراچی میں ناقص اتنظامی حکمت عملی کے باعث کروڑوں روپے سے تعمیر کی گئی نئی سڑک کو کھود دیا گیا جس پر ٹاون انتطامیہ حرکت میں آگئی اور کام کو فوری طور پر رکوا دیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں کی طرح گلشن اقبال بھی اپنے تاریخ کے بدترین دور سے گزررہا ہے اور ماضی میں کراچی کے بہترین علاقوں میں شمار ہونے والے گلشن اقبال مکمل طور پر اجڑ گیا ہے جہاں سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئیں ہیں۔
شہر میں انتظامی امور بری طرح متاثرہور ہے ہیں جبکہ گلشن اقبال میں سیوریج ، پانی کی لائنوں کی وجہ سے جگہ جگہ کھدائی کی گئی لیکن ایس ایس جی سی نے پورے گلشن اقبال کی مرکزی سڑکوں کے ساتھ ساتھ گلیوں کی سڑکوں کو کھود کررکھ دیا۔
ناقص حکمت عملی اداروں میں رابطوں کا فقدان نے شہریوں کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔
گلشن اقبال میں کلک منصوبے کے تحت چند ماہ قبل گلشن اقبال بلاک 13 اے حسن اسکوائر سے ہوتی ہوئی بلاک 13 بی مصطفی اسپتال تک ایک نئی سڑک بنائی گئی تھی جس پر تخمینہ لاگت 9 کروڑ روپے آیا تھا۔
شہری اس سڑک کو پورے گلشن اقبال میں ایک بہتر سڑک تصور کرتے تھے لیکن اچانک اس نئی سڑک کو گذشتہ رات ایس ایس جی سی نےکھود کر تباہ کردیا۔
اس سڑک کوگلشن اقبال کے مختلف بلاکس اور ضلع وسطی کے مکین خصوصی طور پر استعمال کررہے تھے کیونکہ یونی ورسٹی روڈ گزشتہ 5 سال زیر تعمیر ہے اور شہری یہ سڑک متبادل کے طور پر استعمال کرر ہے تھے۔
صہباء اختر روڈ کو کے ایم سی نے کھود دیا ہے جبکہ 13 ڈی 2کی سڑک 9ماہ سے کھدی ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گلشن اقبال ٹاون کو اعتماد لئے بغیر نئی سڑک کو کھودا گیا ہے جس پر فوری طور ٹاون انتظامیہ موقع پر پہنچی اور کام کو رکوا دیا۔
گلشن ٹاون حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایس ایس جی سی کو اس سڑک کی کھدائی کا اجازت نامہ 6 ماہ قبل دیا گیا، یہ گیس لائن پورے علاقے میں گیس کی تقسیم کی مرکزی لائن ہے لیکن یہ کام ایس ایس جی سی نے بغیر بتائے کیا گیا کیونکہ گلشن ٹاون نے ابھی اس کام کو روکا ہوا تھا کیونکہ یہ واحد راستہ تھا جو استعمال کیاجا رہا ہے دیگر راستے غیر ہموار ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کلک نے یہ سڑک 9 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی تھی لیکن اس میں سروس ڈگ نہیں بنائی گئی جس کی وجہ سے سڑک کو کھود گیا اس طرح کی سڑک میں سروس ڈگ لازمی بنائی جا تی ہے۔
اس حوالے سے شہریوں نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کروڑوں روپے سے تعمیر ہو نے والی سڑک کو چند ماہ میں کھود دیا گیا اس کی تحقیقات ہونی چائیے اور کلک نے یوٹیلیٹی لائنوں کی تبدیلی کے بغیر کس طرح یہ سڑک بنادی گئی۔
شہریوں نے سندھ حکومت سے فوری طور پر نوٹس اور ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جبکہ ٹاون انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کلک اور ایس ایس جی سی کو تمام صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔
کھودی گئی یہ نئی سڑک حسن اسکوائر کرٹن مارکیٹ سے ہوتی ہوئی دولت اسکوائر گیلانی رویلے اسٹیشن سے مصطفی اسپتال والی گلی تک بنائی گئی تھی، جسے یومیہ سیکڑوں شہری استعمال کرتے تھے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.