بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے بھرپور احتجاج اور شدید نعرے بازی کی
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے اسمبلی میں صوبائی بجٹ پیش کر دیا، پنجاب حکومت نے تنخواہوں میں 7 فیصد، پنشن میں ساڑھے تین فیصد اور ترقیاتی بجٹ کو آدھا کرنے کی تجویز دی ہے۔
پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک، نعت رسول مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی اجلاس میں موجود تھیں۔
بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے بھرپور احتجاج کیا اور ایوان میں داخل ہوتے ہی نعرے بازی شروع کر دی۔ اپوزیشن ارکان نے "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو" کے نعرے لگائے جبکہ ان کے ہاتھوں میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج میں شدت پیدا ہوئی اور وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے قریب وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اپوزیشن ارکان نے "جعلی بجٹ نامنظور، نامنظور" کے نعرے بھی لگائے۔
حکومت کی جانب سے پیپر لیس اجلاس کے انعقاد کے باوجود اپوزیشن ارکان اپنے ساتھ کاغذات لے کر آئے تھے۔ وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے احتجاجاً کاغذات پھاڑ کر ایوان میں اچھال دیے، جس سے اجلاس کا ماحول خاصا ہنگامہ خیز رہا۔
قبل ازیں پنجاب کابینہ کے اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کی منظوری دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں نئے مالی سال کے بجٹ سے متعلق مختلف امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے مالیاتی اہداف اور بجٹ تجاویز پر تفصیلی بحث کی گئی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں بجٹ میں شامل مختلف سفارشات کا جائزہ لیا گیا جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سے متعلق تجاویز بھی زیر غور رہیں۔ اجلاس کے شرکا بجٹ کی مختلف شقوں اور ان کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کرتے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کابینہ اجلاس میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد بجٹ کو پنجاب اسمبلی میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے 35 ویں اجلاس میں ایران،امریکا معاہدے پر خصوصی قرارداد منظور کی گئی۔
اس کے علاوہ پہلی مرتبہ بورڈ آف ریونیو کے اہداف میں 25 فیصداور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹیکس کے اہداف میں 77 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا، پہلی مرتبہ بورڈ آف ریونیو کے اہداف میں 25 فیصداور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹیکس کے اہداف میں 77 فیصد اضافہمجموعی طور پر پنجاب کے اپنے ریونیو اہداف 42.7فیصد بڑھا دیئے گئے، صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔
قبل ازیں پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کرکے 752 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی، ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال 2025-26 میں 1240 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا گیا تھا، جبکہ رواں سال ترقیاتی منصوبوں کے لیے صرف 752 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
اس طرح گزشتہ سال کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ میں 488 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔
گزشتہ سال 5755 منصوبے بجٹ کا حصہ تھے جبکہ رواں سال یہ تعداد 3560 رہ گئی ہے، یعنی 2195 منصوبے کم کر دیے گئے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ سال 1662 نئے منصوبے شامل کیے گئے تھے جبکہ رواں سال صرف 420 نئے منصوبے شامل کیے جانے کی تجویز ہے۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.