Native World News

سندھ سے باہر بلاول بھٹو کی پہلی بڑی جیت

سندھ سے باہر بلاول بھٹو کی پہلی بڑی جیت

اندازے اور قیافے تو یہی تھے کہ جی بی کے تازہ اسمبلی انتخابات میں نون لیگ ہی جیت سے ہمکنار ہوگی۔

چھ دن پہلے گلگت بلتستان اسمبلی کے جو عام انتخابات منعقد ہُوئے ہیں ، اِن کے نتائج سے کوئی خوش بھی ہے ؟اِن انتخابات میں پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں ( پی پی پی ، نون لیگ اور پی ٹی آئی) نے جیت سے ہمکنار ہونے کے لیے بڑا زور لگایا۔ کچھ بڑی مذہبی جماعتیں بھی میدان میں اُتری تھیں ۔ فتح اور جیت تو مگر کسی ایک پارٹی ہی کا مقدر بننی تھی ۔ سو بنی ۔ مگر اِن نتائج بارے غصیلے اور ناراضی کے بیانات مسلسل آ رہے ہیں ۔ مثلاً: 9جون2026 کو پشاور میں جے یو آئی (ایف) کے سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس میں فرمایا:’’ جی بی کے انتخابات اور انتخابی نتائج کو ہم مسترد کرتے ہیں ۔

یہ انتخابات اور اِن کے نتائج دراصل 2024ء کے عام پاکستانی انتخابات ہی کا پرتَو تھے ۔‘‘اِس پریس کانفرنس کا سب سے منفرد پہلو یہ تھا کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ، جناب سہیل آفریدی، بھی کھڑے تھے اور اُن کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے ۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین ، بیرسٹر گوہر علی خان، بھی اپنی ایک بھرپور پریس کانفرنس میں گلگت بلتستان (GB) کے حالیہ اسمبلی انتخابات پر عدم اطمینان کا کھلا اظہار کر چکے ہیں ۔

گوہر صاحب تو یہ بھی اعلان کر چکے ہیں کہ ’’جس دن جی بی کے منتخب ارکانِ اسمبلی حلف اُٹھائیں گے ، ہم اُس دن یومِ سیاہ منائیں گے ۔‘‘ موصوف نے بلکہ یہ دعویٰ بھی کر ڈالا ہے کہ’’ جی بی میں7جون کے انتخابات میں ہم نے اکثریتی سیٹیں جیتیں ، مگر ہمارے خلاف دھاندلی ہُوئی ہے ۔‘‘گویا پی ٹی آئی تو بوجوہ رو ہی رہی ہے ، اُس کے ساتھ باقی بھی مسکرانہیں رہے ہیں ۔ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ ( محمود خان اچکزئی صاحب) اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر جناب علامہ ناصر عباس ( جو MWMکے سربراہ بھی ہیں)نے بھی جی بی انتخابات کو ’’غیر شفاف‘‘ اور ’’کارستانی و چالاکی‘‘قرار دیا ہے ۔

بھارت نے جی بی اور جی بی اسمبلی انتخابات بارے جو منفی پروپیگنڈہ کرنا تھا ، کیا مگر اِن انتخابات بارے ہمارے اپنے گھر میں بھی اتفاقِ رائے نہیں پایا جارہا ۔ یہ بد قسمتی ہے کہ ہمارے ہر قومی اور صوبائی انتخابات ( بشمول بلدیاتی انتخابات ، بشرطیکہ وہ منعقد بھی ہوں) بارے اشکالات ،اشتباہات اور شبہات ہمیشہ موجود رہتے ہیں ۔ کبھی RTSبیٹھنے کی شکایات سامنے آ جاتی ہیں اور کبھی جیتی ہُوئی سیٹوں کی پُر اسرارانداز میں ’’ادلی بدلی‘‘ ہو جاتی ہے۔ اِس منظر سے ہمارے حصے میں ، اجتماعی طور پر ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر، نیک نامی اور شوبھا نہیں آ رہی ۔ ہم اپنے دشمن ہمسائے (بھارت) سے بھی کوئی درس لینے کے لیے تیار نہیں ۔

اندازے اور قیافے تو یہی تھے کہ جی بی کے تازہ اسمبلی انتخابات میں نون لیگ ہی جیت سے ہمکنار ہوگی۔ بڑی وجہ یہ بیان کی جاتی رہی کہ ’’جس پارٹی کی اسلام آباد میں حکومت ہوتی ہے، وہی جی بی (یا آزاد کشمیر) میں بھی فتح یاب ہوتی ہے ۔‘‘ مگر اِس بار یہ قیافہ اور اندازہ غلط ثابت ہُوا ہے ۔ حالانکہ نون لیگ کے صدر ، جناب محمد نواز شریف، بنفسِ نفیس جی بی الیکشن مہمات میں شریک ہُوئے ۔ اُن کے ساتھ وفاقی کابینہ کے کئی سینئر ارکان بھی جی بی میں اپنے پارٹی اُمیدواران کی حمائت میں موجود پائے گئے ۔نون لیگی صدر کے داماد ( کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اعوان صاحب) بھی مقدور بھر جی بی انتخابات کو نون لیگ کے حق میں پلٹانے کی اپنی سی سعی کرتے رہے ۔

اگرچہ مخالفین نے اِن کے بارے اعتراضات بھی اُٹھائے۔ اِن سب کوششوں اور دوڑ دھوپ کے باوجود نون لیگ جی بی میں ہار گئی ۔ حیرانی کی بات ہے کہ نون لیگی رہنما ، سابق وفاقی وزیر اور جی بی میں نون لیگی الیکشن کمپین کے انچارج ، جناب سعد رفیق، نے نتائج آنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے:’’ہمارے پاس فنڈز نہیں تھے ، اس لیے ہم جیت نہیں سکے ، جب کہ پیپلز پارٹی کے پاس فنڈز کی کوئی کمی نہیں تھی ۔‘‘حیرت انگیز بات ہے کہ سعد رفیق ایسا تجربہ کار سیاستدان ( جس کی پارٹی مرکز میں مکمل طور پر صاحبِ اختیار ہے) گلہ کر رہا ہے کہ ہم فنڈز کی کمی کے کارن جیت نہیں سکے: اِس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا!!

سعد رفیق صاحب ( جن کے برادرِ خورد پنجاب میں وزیر ہیں) کا بیانِ شکست اپنی جگہ ، مگر اِس کی کیا وجہ ہے کہ انتخابی شکست کے باوجود نون لیگی وزیر اعظم، جناب شہباز شریف، خوش خوش نظر آ رہے ہیں؟اُنھوں نے اگلے روز صدرِ پاکستان ( جناب آصف علی زرداری) کو جی بی انتخابات میں فتحیابی پر مبارکباد بھی دی اور ساتھ ہی ( وہیں موجود ) بلاول بھٹو زرداری صاحب کی جی بی میں انتخابی دوڑ دھوپ کی زبردست تحسین بھی کی ۔ شنید ہے کہ اپنے صاحبزادے کی تعریف سُن کر جناب آصف علی زرداری نے خوش ہو کر ، فخریہ کہا:’’ آخر بیٹا کس کا ہے!۔‘‘دیکھا جائے تو جی بی میں نون لیگ کی شکست اور پسپائی کا مطلب یہ ہے کہ عوام نے نون لیگ ( جو پچھلے چار سال سے مرکزی اقتدار پر براجمان ہے) پر مجموعی طور پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کر ڈالا ہے ۔

پچھلے چار برسوں کے دوران مقتدر نون لیگی اور شہباز حکومت نے عوام کا شدید ترین مہنگائی سے جو بھرکس نکال مارا ہے، اِس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ جی بی کی شکست کے آئینے میں نون لیگ آنے والے ایام میں ، عام انتخابات کے دوران ، اپنا سیاسی چہرہ ملاحظہ کر سکتی ہے۔ عوام نے جی بی میں پیپلز پارٹی کو فتح سے ہمکنار کرکے وزیر اعظم صاحب اور اُن کی پارٹی کو بتا دیا ہے کہ عوام اُن سے قطعی خوش نہیں ہیں ۔

پیپلز پارٹی کو جی بی میں فتح اور کامیابی ملی ہے تو بجا طور پر اِس کا سہرا بلاول بھٹو زرداری کے سر بندھتا ہے ۔ بڑی دیر کے بعد پیپلز پارٹی ، بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کو ، سندھ سے باہر، پہلی بار بڑی سیاسی و انتخابی کامیابی ملی ہے ۔ تیر نے جی بی کے عوام کے دلوں کو شکار کیا ہے ۔ تاریخ کے اوراق بھی بتاتے ہیں کہ جی بی میں پیپلز پارٹی کی جڑیں قدیم بھی ہیں اور دُور تک پھیلی بھی ہیں ۔ بلاول بھٹو نے اِس تاریخی ورثے کو آگے بڑھایا ہے ۔ جی بی میں زیڈ اے بھٹو نے احسانات کا آغاز کیا تھا۔ بھٹو صاحب نے جی بی میں راجشاہی نظام کا خاتمہ کیا تھا ۔

بھٹو صاحب کی کوششوں ہی سے جی بی کو پاکستان کا انتظامی یونٹ بنایا گیا ۔ بھٹو شہید ہی نے جی بی میںFCRکا سیاہ قانون ختم کیا تھا۔ بے نظیر بھٹو شہید نے جی بی میں ’’ناردرن ایریا لیگل فریم ورک آرڈر ‘‘ متعارف کروایا ۔ اِس سے مقامی لوگ پاکستان کے قریب بھی آئے اور جی بی میں ادارہ جاتی مفادات بھی آگے بڑھے ۔ بھارتی اثرو نفوذ کو بھی پیچھے دھکیل دیا گیا ۔ پیپلز پارٹی کے (سابقہ) وزیر اعظم ، سید یوسف رضا گیلانی، کے دَورِ حکومت میں جی بی کو ’’ناردن ایریا‘‘ کی بجائے ’’گلگت بلتستان‘‘ کا نام دے کر بڑی شناخت دی گئی ۔ پیپلز پارٹی اور صدر زرداری کی کوششوں ہی سے جی بی میں پہلی بار اسمبلی کے عام انتخابات ہُوئے تھے اور جی بی کا پہلا وزیر اعلیٰ بھی پیپلز پارٹی ہی کا منتخب ہُوا تھا۔

جی بی میں پیپلز پارٹی کے مقابل نون لیگ اور پی ٹی آئی نَو آموز اور نَو مولود کہی جا سکتی ہیں ۔ جی بی میں پارٹی کے پرانے تعلقات اور پرانی سیاسی جڑوں کو پی پی پی کے چیئرمین، جناب بلاول بھٹو زرداری، نے بروقت پہچانا اور خوب پہچانا ۔ اُنھوں نے محنت بھی کی اور انتخابی مہمات میں اُن کی محنت نظر بھی آتی رہی ۔ اب وہ جی بی میں حکومت بھی بنانے جارہے ہیں ۔ جی بی میں پی پی پی کے دیرینہ صدر ، جناب امجد حسین آزر، اُن کے پرانے اور آزمودہ ساتھی ہیں۔ اُن کے تعاون سے بھی جی بی میں پیپلز پارٹی کا وزیر اعلیٰ بنتا نظر آ رہا ہے ۔ اگر جی بی میںبقیہ5سیٹوں پر 15جون کو دوبارہ انتخاب ہو جاتا ہے تو یہ تصویر مزید نکھر کر سامنے آ جائے گی ۔ اگر پیپلز پارٹی قومی بجٹ پاس کروانے میں نون لیگی حکومت کا بھرپور ساتھ دے گی تو سمجھئے جی بی میں پیپلز پارٹی کا وزیر اعلیٰ پکّا!!

Source: https://www.express.pk/story/2817115/sindh-se-bahar-bilawal-bhutto-ki-pahli-bari-je-2817115

Discussion

Sign in to join the thread, react, and share images.