پوری دنیا کی معیشت اس وقت ایک عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ ایران، امریکا کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے دوچار کر دیا ہے
پوری دنیا کی معیشت اس وقت ایک عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ ایران، امریکا کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کو تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے دوچار کر دیا ہے جس کے باعث خلیجی ریاستوں کی رفتار بدل چکی ہے، ترقی پذیر ممالک مہنگائی، قرض اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
دنیا میں ہر طرف معاشی افراتفری پھیل چکی ہے۔ 2008 سے بھی بڑی عالمی کساد بازاری منہ کھولے کھڑی ہے۔ کووڈ 19 سے بھی زیادہ غیر یقینی معاشی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ ان حالات میں پاکستان جیسی معیشت کے لیے سب سے بڑی نعمت وہ لوگ بن گئے ہیں جو اپنے وطن سے ہزاروں میل دور صحراؤں، برفانی شہروں، گھڑ گھڑاتی مشینوں، 30 منزلہ عمارت کے آخری فلیٹ پر کام کرتے ہوئے، بھیڑ میں ٹیکسیاں چلاتے ہوئے اپنی زندگیاں کھپا رہے ہیں۔ کہیں ڈالر کہیں دینار کہیں ریال کما رہے ہیں اور پاکستان بھیج رہے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جنھیں سرکاری ایوانوں میں، کابینہ کے اجلاس میں ’’اوورسیز پاکستانی‘‘ کہا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ پاکستان کی قرض سے لدی ہوئی معیشت کے معاشی محافظ ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026میں پاکستان کو تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی تھیں جوکہ مارچ کے مقابلے میں 7.6 فی صد کم ہے، اگر 10 ماہ کی بات کریں تو موجودہ مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں 33 ارب 90 کروڑ ڈالرز کا زرمبادلہ حاصل ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ مارچ میں وصول ہونے والا زر مبادلہ 3 ارب 83 کروڑ ڈالر تک تھا۔ یہ محض معاشی عدد نہیں یہ لاکھوں خاندانوں کے چولہے کی آنچ ہے، بچوں کی فیس ، بوڑھے والدین کی دوائیں، ادھورے گھروں کی چھتوں اور قرض دار افراد کی آخری امید کا نام ہے۔
معیشت صرف جی ڈی پی، افراط زر کی شرح، معاشی شرح نمو سے متعلق اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کا نام ہے ،اگر ان اعداد و شمار سے انسان کو پیچھے چھپا دیا جائے تو معیشت کی کہانی بالکل ادھوری رہ جاتی ہے۔ پاکستان کی ترسیلات زر کی کہانی بعینہ اسی طرح سے ہے جہاں ہر ڈالر کے پیچھے ایک مزدور کھڑا ہے۔ ہر پونڈ کے پیچھے ایک پاکستانی ڈرائیور کھڑا ہے جو شاید لندن کی کسی یخ بستہ رات میں ایک کمرے میں 10 پاکستانیوں کے ساتھ اپنے خاندان کے لیے سنہری خواب جمع کرتا رہا ہے۔ ایسا مزدور جو سعودی عرب کی چلچلاتی دھوپ میں مزدوری کر رہا ہو اور ان سب نے مل کر 34 ارب ڈالر 10 ماہ میں پاکستان بھیج دیے۔
دنیا بھر کی معیشتیں اپنے غیر ملکی کارکنوں کے لیے امیگریشن قوانین سخت کرا رہی ہیں۔ یورپ میں ملکی کارکنان کو روزگار کی فراہمی کے لیے غیر ملکیوں کے لیے قوانین سخت کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح دیگر ممالک کی پالیسیوں نے تارکین وطن کے لیے مشکلات کا اجرا کرنا شروع کر دیا ہے۔ غیر ملکی کارکنوں کا وجود بہت سے ملکوں میں خطرے میں پڑ چکا ہے۔
اس کے باوجود پاکستانی مزدور اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ جب پاکستان کے اندر اکثر صنعتوں کو تالے لگ رہے ہوں، ابھی تازہ اطلاعات کے مطابق 10 ماہ کی برآمدات میں گراوٹ آئی ہے۔ آئے روز سخت ترین دہشت گردی کے ماحول نے کے پی کی زمین کو افسردہ کر دیا ہو جس کے باعث بیرونی سرمایہ کاری نے راہ فرار اختیار کیے رکھی ہو۔ ایسے میں جب 2015 میں ترسیلات زر کا حجم 19 ارب ڈالر تک تھا جو بعد کے برسوں میں بڑھتے بڑھتے 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔ کووڈ 19 کے زمانے میں جب دنیا کی کئی معیشتوں نے کم ترسیلات زر کو وصول کیا تھا ایسے میں پاکستان کی ترسیلات زر میں اضافے کا کارنامہ دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں نے خوب انجام دیا۔
ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ اگر ترسیلات زر کو تعلیم، صنعت، تحقیق اور انسانی ترقی پر سرمایہ کاری نہ کریں تو ان کی معیشتیں درآمدی انحصار کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہمارے بیرونی تجارت کے اعداد و شمار عرصہ دراز سے اسی بات کی دہائی دے رہے ہیں کہ ملکی برآمدات کم اور درآمدات دگنی اور تجارتی خسارہ کہاں سے کہاں پہنچ کر ہمیں بار بار ترسیلات زر میں اضافے کی راہ دکھا رہا ہے۔
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 10 ماہ کے دوران برآمدات کا حجم محض 25 ارب 21 کروڑ ڈالرز اور 25 ارب ڈالر کے مقابلے میں تجارتی خسارہ 31 ارب 98 کروڑ ڈالرز۔ یعنی 32 ارب ڈالرز کا تجارتی خسارہ اور 10 ماہ کی ترسیلات زر 34 ارب ڈالرز۔ ایسا معلوم دے رہاہے کہ 32 ارب ڈالر کا زخم تو لگا تھا لیکن دیار غیر میں مقیم پاکستانی بھائیوں نے وفاداری نبھائی اور ملک کو 34 ارب ڈالر کا مرہم فراہم کر دیا۔
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.