مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ طنزیہ شاعری کرنے والے بھی کم پڑ گئے ہیں۔جب روٹی کے لالے پڑے ہوں توذوقِ شگفتہ نگاری بھی مدہم پڑ جاتا ہے۔
مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ طنزیہ شاعری کرنے والے بھی کم پڑ گئے ہیں۔جب روٹی کے لالے پڑے ہوں توذوقِ شگفتہ نگاری بھی مدہم پڑ جاتا ہے۔ مہنگی ترین بجلی ، مہنگے ترین پٹرول و ڈیزل، مہنگی ترین گیس ، مہنگے ترین سولر پینل اور بے روزگاری جب اپنی انتہاؤں کو پہنچ رہی ہو تو پھر سماج میں نہ کوئی سید ضمیر جعفری ایسا شگفتہ نگار شاعر پیدا ہوتا ہے نہ مشتاق یوسفی ایسا کوئی طناز نثر نگار ۔ خنجر ایسی طنزیہ و مزاحیہ شاعری کرنے والے اکبر الٰہ آبادی کو تو بالکل بھُول ہی جائیے! دلشکن معاشی حالات کے باوجود ، پھر بھی ، کہیں کہیں مزاح کے لبادے میں چھپی طنزیہ شاعری دیکھنے اور پڑھنے کو مل ہی جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر خالد عرفان صاحب کی بر محل شاعری ۔اُن کا ایک شعر یوں ہے: کیسا عجیب آیا ہے اِس سال کا بجٹ/ مرغی کا جو بجٹ ہے وہی دال کا بجٹ ۔ مطلب یہ ہے کہ کمر توڑ مہنگائی نے خورو نوش کی اشیا اتنی گراں کر دی ہیں کہ اب مرغی اور دال کے دام مساوی ہو گئے ہیں ۔ دال پر گزارا کرنے والا غریب اب دال بھی کہاں سے اور کیسے خریدے ؟
سالانہ بجٹ ہمیشہ کی طرح للکارتا اور پھنکارتا ہُوا آچکا ہے۔کوئی بھی بجٹ عوام کے لیے اطمینان اور خوشی کا سندیسہ لے کر نہیں آتا ۔ شہباز حکومت کے وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب، کا 2026ء کا پیش کردہ بجٹ بھی کسی غریب پاکستانی یا متوسط طبقات کے لیے خوشی اور ریلیف کی خبریں لے کر نہیں آیا۔ جناب شہباز شریف کی حکومت نے بطورِ وزیر اعظم اپنا پانچواں سالانہ بجٹ پیش کر دیا ہے ۔ اور یہ تازہ بجٹ بھی گذشتہ بجٹوں کی طرح مایوسیاں اور پریشانیاں ہی لے کر آیا ہے ۔
12جون2026ء کو قدرے تاخیر سے وزیر خزانہ ، سینیٹر محمد اورنگزیب، نے بجٹ پیش کیا تو اپوزیشن ( جن میں پی ٹی آئی کے ارکان زیادہ تھے) نے ایوان میں خوب فِیل مچایا ، مگر بجٹ تو پیش کر دیا گیا۔ وزیر خزانہ بیچارے کے خلاف ہوٹنگ بے معنی تھی۔موصوف پچھلے تین برسوں کے دوران وہی بجٹ پیش کررہے ہیںجو آئی ایم ایف کے ماہرین کے مشوروں کے مطابق تیار کای جاتا ہے۔ اگر دل جلی بات کی جائے تو کہا جائے گا کہ وزیر خزانہ تو عوام کے نمایندہ ہیں نہ ووٹ لے کر اِس عہدے پر متمکن ہُوئے ہیں، اس لیے اُنہیں عوام کے درد اور مصائب کا کیا اور خیال ہو سکتا ہے؟ اس لیے زمینی حقیقت یہ ہے کہ بنیادی طور پر وفاقی وزیر خزانہ صاحب سے عوام کا شکوہ اور گلہ بنتا ہی نہیں ہے۔ عوام کا غصہ اور شکوہ تو شہباز حکومت پر ہے۔
ہر سال حکومت سالانہ بجٹ میں بھاری خسارے دکھاتی ہے۔ اِس بار بھی بجٹ میں اربوں کھربوں کا خسارہ دکھا دیا ہے۔ شائد اِنہی مبینہ خساروں کی گردان سُن کر تنگ آئے بزرگ طناز شاعر، انور مسعود صاحب، نے کہہ رکھا ہے: بجٹ مَیں نے دیکھے ہیں سارے ترے/ انوکھے انوکھے خسارے ترے!! بجٹ پیش کرتے ہُوئے ہر وزیر خزانہ ایسی جنّاتی زبان اور تخمیناتی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں کہ اکثریتی عوام سمجھ ہی نہیں پاتی ۔ بجٹ سمجھنے کی بجائے عوام مزید الجھاؤ اور پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔بجٹ اعدادو شمار کا پیچیدہ اور ناقابلِ فہم گورکھ دھندہ نظر آتا ہے ۔
اکثریتی غریب عوام ان اعدادوشمار کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی ۔ بجٹ پروزیر خزانہ کی طویل تقریر سُن کر بظاہر تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ترقی کی راہ پر بگٹٹ بھاگ رہی ہے۔ عوام کو مگر اپنی زندگیوں میں ترقی اور خوشحالی کا احساس نہیں ہورہا ۔ شاعر ظفر کمالی نے شائد ٹھیک ہی کہا تھا: خسارے پر خسارے کا بجٹ تیار ہوتا ہے/ معیشت کی ترقی کا مگر پرچار ہوتا!
پاکستان کے عوامی اور باغی شاعر ، حبیب جالب، نے برسوں قبل کہا تھا کہ ’’ بجٹ کا اعلان دراصل غریب کے لیے جھٹکا ہوتا ہے ۔‘‘ جن لوگوں نے سکھوں کو بکرے کا جھٹکا کرتے دیکھا ہے، وہ حبیب جالب مرحوم کے استعمال کردہ جھٹکے کی شدت اور وحشت کو محسوس کر سکتے ہیں۔ایک زمانہ ہوتا تھا کہ بجٹ کی پیشکاری کے دن عوام ٹی وی کی اسکرینوں سے چپک جایا کرتے تھے ، اِس اُمید کے ساتھ کہ حکومت عوام کے لیے کسی ریلیف کا اعلان کرے گی ۔مگر رفتہ رفتہ عوام نے جب یہ محسوس کیا کہ ہر حکمران بجٹ میں اپنے لیے اور اعلیٰ ترین سرکاری مراعات یافتہ اشرافیہ کے لیے نت نئی ریلیف ، سبسڈی اور سہولتوں کے تحفظ کا اعلان تو کرتا ہے مگر بجٹ میں غریب کی دستگیری کے لیے کوئی اطمینان بخش اعلان نہیں ہوتا ؛ چنانچہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ بجٹ کی پیشکاری کے دن عوام کو وزیر خزانہ کی شکل و صورت دیکھنے سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے نہ اُس کے الفاظ سُننے میں۔ اِس بار بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے میں آئے ہیں ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہر حکمران نے عوام سے اتنے دغے اور وعدہ شکنیاں کی ہیں کہ اب مایوس ہو کر عوام نے کسی بھی حکمران اور سیاسی پارٹی سے کوئی مثبت توقع لگانا ہی ترک کر دی ہے ۔ یہ خطرناک سماجی رجحان ہے ۔
2026ء کے تازہ بجٹ نے وفاقی حکومت کی کارکردگی کا پول بھی کھول دیا ہے ۔ واضح طور پر بجٹ اور اکنامک سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ حکومت کے تین برسوں ( پلس پچھلے دو برس) کے دوران ملک میں خاطر خواہ غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہو سکی ہے ۔ پروفیسراحسن اقبال کا ’’اُڑانِ پاکستان‘‘ پروگرام اُڑنے سے پہلے ہی بیٹھ چکا ہے اور بلند بانگ دعووں سے شروع کیا گیاSIFCبھی اپنے مقاصدو اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ایکسپورٹ کا گراف نیچے کی طرف ہے ۔
پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا نہ ہونا دراصل غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان کے سیاسی ، سماجی و معاشی حالات پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ پاکستان میں بجلی اور گیس کی ہوشربا قیمتیں خطّے کے مہنگے ترین نرخ ہیں ۔ ٹیکسوں کی شرح تو کمر توڑ ہے۔ایسے حوصلہ شکن معاشی ماحول میں کون آئے گا یہاں سرمایہ لگانے ؟ غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہو گی تو نئے کارخانے نہیں لگیں گے ۔ نئے کارخانے نہیں لگیں گے تو تو نیا روزگار پیدا نہیں ہوگا ۔ اور یوں ’’ترقی‘‘ ایک بار پھر بوڑھ کے نیچے آ کھڑی ہوتی ہے ۔
حکومت ماشاء اللہ، عالمی سفارتی اور عالمی امن کے محاذ پر ، فی الحال ، کامیابی کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے ، لیکن اِسے بد قسمتی ہی کہنا چاہیے کہ وطنِ عزیز کے اندر یہ حکومت کامل قیامِ امن میں کامیاب نہیں ہو پارہی ۔ بھارت افغانستان کے راستے ( احسان فراموش افغان طالبان کے توسط اور شہ پر) خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مسلسل خونریز مداخلتیں کررہا ہے ۔ بھارت نے حالیہ ایام میں آزاد کشمیر میں جو خونی مداخلت کی ہے، یہ نیا فنامنا ہے اور یہ بتا رہا ہے کہ پاکستان میں بد امنی پیدا کرنے کے لیے بھارت کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا۔بھارتی خونیںشرانگیزیوں کو روکنے کے لیے پاکستان اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو زرِ کثیر بھی خرچ کرنا پڑ رہا ہے اور بہت سی توانائیاں بھی صَرف ہو رہی ہیں۔
یہ سارے بھاری اخرجات یا تو پاکستانی عوام کی جیبوں سے پورے کرنا پڑتے ہیں یا بھاری شرح پر غیر ملکی ساہوکاروں سے قرض لینا پڑتا ہے ۔ ہماری اشرافیہ کے اللے تللے بھی کم نہیں ہو رہے ۔ کھربوں روپے کے غیر ملکی قرضے ہماری قومی کمر توڑ رہے ہیں ۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4روپے فی لٹر کمی کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے ؛ چنانچہ ہم وزیر اعظم شہباز شریف صاحب کو یہ کہتے ہُوئے سُن رہے ہیں: ’’بجٹ میں ہم نے عوام کو ریلیف دیا ہے ۔ عوام کی خوشحالی کادَور شروع ہو چکا ہے ۔‘‘ ستم ظریفی شائد اِسی کا نام ہے!
Discussion
Sign in to join the thread, react, and share images.